ندا فاضلی

شاعر

تعارف شاعری

چاہت ندیا چاہت ساگر

چاہت ندیا چاہت ساگر
چاہت دھرتی چاہت انبر
چاہت رادھا چاہت گردھر
دل کا دھڑکنا یہ ہی چاہت ہے
نیند نہ آنا یہ ہی چاہت ہے
چاہت نہ ہوتی کچھ بھی نہ ہوتا
میں بھی نہ ہوتی تو بھی نہ ہوتا
تم مجھ سے الگ کب ہو
میں تم سے جدا کب ہوں
پانی میں کنول جیسے
رہتے ہو مجھی میں تم
دیکھوں تو تمہیں دیکھوں
سوچوں تو تمہیں سوچوں
ساگر میں ندی جیسے
بہتے ہو مجھی میں تم
چاہت خوشبو چاہت رنگت
چاہت مورت چاہت قدرت
چاہت گنگا چاہت جمنا
ہوش گنوانا یہ ہی چاہت ہے
جان سے جانا یہ ہی چاہت ہے
چاہت نہ ہوتی
جب تو نہیں ہوتا ہے
اس وقت بھی ہر شے میں
ہر گیت میں ہر لے میں
تو ہی نظر آتا ہے
بکھرا کے کبھی زلفیں
چمکا کے کبھی چہرہ
تم ہی مری دنیا کے
دن رات سجاتے ہو
چاہت گھونگھٹ چاہت درپن
چاہت سجنی چاہت ساجن
چاہت پوجا چاہت درشن
آنکھ بھر آنا یہ ہی چاہت ہے
جی گھبرانا یہ ہی چاہت ہے
چاہت نہ ہوتی

ندا فاضلی