ندا فاضلی — شاعر کی تصویر

دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھو — ندا فاضلی

شاعر

تعارف شاعری

دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھو

دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھو
زندگی کیا ہے کتابوں کو ہٹا کر دیکھو
صرف آنکھوں سے ہی دنیا نہیں دیکھی جاتی
دل کی دھڑکن کو بھی بینائی بنا کر دیکھو
پتھروں میں بھی زباں ہوتی ہے دل ہوتے ہیں
اپنے گھر کے در و دیوار سجا کر دیکھو
وہ ستارہ ہے چمکنے دو یوں ہی آنکھوں میں
کیا ضروری ہے اسے جسم بنا کر دیکھو
فاصلہ نظروں کا دھوکہ بھی تو ہو سکتا ہے
وہ ملے یا نہ ملے ہاتھ بڑھا کر دیکھو

Dhoop mein niklo ghataon mein naha kar dekho

Dhoop mein niklo ghataon mein naha kar dekho
Zindagi kya hai kitabon ko hata kar dekho
Sirf aankhon se hi duniya nahin dekhi jaati
Dil ki dhadkan ko bhi beenai bana kar dekho
Pattharon mein bhi zubaan hoti hai dil hote hain
Apne ghar ke dar o deewar saja kar dekho
Wo sitara hai chamakne do yun hi aankhon mein
Kya zaroori hai use jism bana kar dekho
Faasla nazron ka dhoka bhi to ho sakta hai
Wo mile ya na mile haath badha kar dekho

شاعر کے بارے میں

ندا فاضلی

ندا فاضلی جن کا اصل نام مقتدی حسن فاضلی تھا جدید اردو شاعری کے ان نمایاں اور منفرد لہجے کے شاعر تھے جنہوں نے روزمرہ زندگی، انسان کے دکھ اور سماجی ا...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام