تم نے
شاید کسی رسالے میں
کوئی افسانہ پڑھ لیا ہوگا
کھو گئی ہوگی روپ کی رانی
عشق نے زہر کھا لیا ہوگا
تم اکیلی کھڑی ہوئی ہوگی
سر سے آنچل ڈھلک رہا ہوگا
یا پڑوسن کے پھول سے رخ پر
کوئی دھبا چمک رہا ہوگا
کام میں ہوں گے سارے گھر والے
ریڈیو گنگنا رہا ہوگا
تم پہ نشہ سا چھا گیا ہوگا
مجھ کو وشواش ہے کہ اب تم بھی
شام کو کھڑکی کھول دینے پر
اپنی لڑکی کو ٹوکتی ہوگی
گیت گانے سے روکتی ہوگی
Tum ne
Shaayad kisi risale mein
Koi afsaana padh liya hoga
Kho gayi hogi roop ki raani
Ishq ne zeher kha liya hoga
Tum akeli khadi hui hogi
Sar se aanchal dhhalak raha hoga
Ya padosan ke phool se rukh par
Koi dhabba chamak raha hoga
Kaam mein honge saare ghar waale
Radio gungunaa raha hoga
Tum pe nasha sa chhaa gaya hoga
Mujh ko vishvaas hai ke ab tum bhi
Shaam ko khidki khol dene par
Apni ladki ko tokti hogi
Geet gaane se rokti hogi
ندا فاضلی جن کا اصل نام مقتدی حسن فاضلی تھا جدید اردو شاعری کے ان نمایاں اور منفرد لہجے کے شاعر تھے جنہوں نے روزمرہ زندگی، انسان کے دکھ اور سماجی ا...
مکمل تعارف پڑھیں