گھر سے نکلے تو ہو سوچا بھی کدھر جاؤ گے
ہر طرف تیز ہوائیں ہیں بکھر جاؤ گے
اتنا آساں نہیں لفظوں پہ بھروسا کرنا
گھر کی دہلیز پکارے گی جدھر جاؤ گے
شام ہوتے ہی سمٹ جائیں گے سارے رستے
بہتے دریا سے جہاں ہو گے ٹھہر جاؤ گے
ہر نئے شہر میں کچھ راتیں کڑی ہوتی ہیں
چھت سے دیواریں جدا ہوں گی تو ڈر جاؤ گے
پہلے ہر چیز نظر آئے گی بے معنی سی
اور پھر اپنی ہی نظروں سے اتر جاؤ گے
Ghar se nikle to ho socha bhi kidhar jaoge
Har taraf tez hawaen hain bikhar jaoge
Itna aasan nahin lafzon pe bharosa karna
Ghar ki dehleez pukaregi jidhar jaoge
Shaam hote hi simat jaayenge saare raste
Behte dariya se jahan hoge thahar jaoge
Har naye shahar mein kuchh raaten kadi hoti hain
Chhat se deewaren juda hongi to dar jaoge
Pehle har cheez nazar aayegi be-maani si
Aur phir apni hi nazron se utar jaoge
ندا فاضلی جن کا اصل نام مقتدی حسن فاضلی تھا جدید اردو شاعری کے ان نمایاں اور منفرد لہجے کے شاعر تھے جنہوں نے روزمرہ زندگی، انسان کے دکھ اور سماجی ا...
مکمل تعارف پڑھیں