ندا فاضلی — شاعر کی تصویر

ہر گھڑی خود سے الجھنا ہے مقدر میرا — ندا فاضلی

شاعر

تعارف شاعری

ہر گھڑی خود سے الجھنا ہے مقدر میرا

ہر گھڑی خود سے الجھنا ہے مقدر میرا
میں ہی کشتی ہوں مجھی میں ہے سمندر میرا
کس سے پوچھوں کہ کہاں گم ہوں کئی برسوں سے
ہر جگہ ڈھونڈھتا پھرتا ہے مجھے گھر میرا
ایک سے ہو گئے موسموں کے چہرے سارے
میری آنکھوں سے کہیں کھو گیا منظر میرا
مدتیں بیت گئیں خواب سہانا دیکھے
جاگتا رہتا ہے ہر نیند میں بستر میرا
آئنہ دیکھ کے نکلا تھا میں گھر سے باہر
آج تک ہاتھ میں محفوظ ہے پتھر میرا

Har ghadi khud se ulajhna hai muqaddar mera

Har ghadi khud se ulajhna hai muqaddar mera
Main hi kashti hoon mujhi mein hai samandar mera
Kis se poochhun ke kahan gum hoon kai barson se
Har jagah dhundhta phirta hai mujhe ghar mera
Ek se ho gaye mausamon ke chehre saare
Meri aankhon se kahin kho gaya manzar mera
Muddatein beet gayin khwab suhana dekhe
Jaagta rehta hai har neend mein bistar mera
Aayina dekh ke nikla tha main ghar se bahar
Aaj tak haath mein mehfooz hai patthar mera

شاعر کے بارے میں

ندا فاضلی

ندا فاضلی جن کا اصل نام مقتدی حسن فاضلی تھا جدید اردو شاعری کے ان نمایاں اور منفرد لہجے کے شاعر تھے جنہوں نے روزمرہ زندگی، انسان کے دکھ اور سماجی ا...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام