ندا فاضلی

شاعر

تعارف شاعری

جب بھی کسی نے خود کو صدا دی

جب بھی کسی نے خود کو صدا دی
سناٹوں میں آگ لگا دی
مٹی اس کی پانی اس کا
جیسی چاہی شکل بنا دی
چھوٹا لگتا تھا افسانہ
میں نے تیری بات بڑھا دی
جب بھی سوچا اس کا چہرہ
اپنی ہی تصویر بنا دی
تجھ کو تجھ میں ڈھونڈ کے ہم نے
دنیا تیری شان بڑھا دی

ندا فاضلی