مرے کرتے کی بوڑھی جیب سے کل تمہاری یاد! چپکے سے نکل کر سڑک کے شور و غل میں کھو گئی ہے بڑی بستی ہے کس کو فکر اتنی! کہ کس کھولی میں کب سے تیرگی ہے یہاں ہر ایک کو اپنی پڑی ہے
ندا فاضلی