میری ماں ہر دن اپنے بوڑھے ہاتھوں سے
ادھر ادھر سے مٹی لا کر
گھر کی کچی دیواروں کے زخموں کو
بھرتی رہتی ہے
تیز ہواؤں کے جھونکوں سے
بیچاری کتنا ڈرتی ہے
میری ماں کتنی بھولی ہے
برسوں کی سیلی دیواریں
چھوٹے موٹے پیوندوں سے
آخر کب تک رک پائیں گی
جب کوئی بادل گرجے گا
ہر ہر کرتی ڈھ جائیں گی
Meri maa har din apne boodhe haathon se
Idhar udhar se mitti la kar
Ghar ki kachi deewaron ke zakhmon ko
Bharti rehti hai
Tez hawaon ke jhonkon se
Bechari kitna darti hai
Meri maa kitni bholi hai
Barson ki seeli deewarein
Chhote mote paivandon se
Aakhir kab tak ruk payengi
Jab koi baadal garjega
Har har karti dheh jayengi
ندا فاضلی جن کا اصل نام مقتدی حسن فاضلی تھا جدید اردو شاعری کے ان نمایاں اور منفرد لہجے کے شاعر تھے جنہوں نے روزمرہ زندگی، انسان کے دکھ اور سماجی ا...
مکمل تعارف پڑھیں