کوئی ہنگامہ اٹھایا جائے بے سبب شور مچایا جائے کس کے آنگن میں نہیں دیواریں کس کو جنگل میں بلایا جائے اس سے دو چار بار اور ملیں جس کو دل سے نہ بھلایا جائے مر گیا سانپ ندی خشک ہوئی ریت کا ڈھیر اٹھایا جائے
ندا فاضلی