پہلے وہ رنگ تھی
پھر روپ بنی
روپ سے جسم میں تبدیل ہوئی
اور پھر جسم سے بستر بن کر
گھر کے کونے میں لگی رہتی ہے
جس کو
کمرے میں گھٹا سناٹا
وقت بے وقت اٹھا لیتا ہے
کھول لیتا ہے ،بچھا لیتا ہے
Pehle woh rang thi
Phir roop bani
Roop se jism mein tabdeel hui
Aur phir jism se bistar ban kar
Ghar ke kone mein lagi rehti hai
Jis ko
Kamre mein ghata sannata
Waqt be waqt utha leta hai
Khol leta hai, bichha leta hai
ندا فاضلی جن کا اصل نام مقتدی حسن فاضلی تھا جدید اردو شاعری کے ان نمایاں اور منفرد لہجے کے شاعر تھے جنہوں نے روزمرہ زندگی، انسان کے دکھ اور سماجی ا...
مکمل تعارف پڑھیں