ندا فاضلی

شاعر

تعارف شاعری

تلاش کر نہ زمیں آسمان سے باہر

تلاش کر نہ زمیں آسمان سے باہر
نہیں ہے راہ کوئی اس مکان سے باہر
بس ایک دو ہی قدم اور تھے سفر والے
تھکان دیکھ نہ پائی تھکان سے باہر
نصاب درجہ بہ درجہ یوں ہی بدلتا ہے
ہوا نہ کوئی بھی اس امتحان سے باہر
اسی کی جستجو اکثر اداس کرتی ہے
وہ اک جہان جو ہے ہر جہان سے باہر
نمازیوں سے کہو دیکھیں چاند سورج کو
نکل رہے ہیں مؤذن اذان سے باہر

ندا فاضلی