اس کے دشمن ہیں بہت آدمی اچھا ہوگا
وہ بھی میری ہی طرح شہر میں تنہا ہوگا
اتنا سچ بول کہ ہونٹوں کا تبسم نہ بجھے
روشنی ختم نہ کر آگے اندھیرا ہوگا
پیاس جس نہر سے ٹکرائی وہ بنجر نکلی
جس کو پیچھے کہیں چھوڑ آئے وہ دریا ہوگا
مرے بارے میں کوئی رائے تو ہوگی اس کی
اس نے مجھ کو بھی کبھی توڑ کے دیکھا ہوگا
ایک محفل میں کئی محفلیں ہوتی ہیں شریک
جس کو بھی پاس سے دیکھو گے اکیلا ہوگا
Us ke dushman hain bahut aadmi achchha hoga
Woh bhi meri hi tarah shahar mein tanha hoga
Itna sach bol ke honton ka tabassum na bujhe
Roshni khatm na kar aage andhera hoga
Pyaas jis nehar se takraai woh banjar nikli
Jis ko peeche kahin chhod aaye woh darya hoga
Mere baare mein koi raaye to hogi us ki
Us ne mujh ko bhi kabhi tod ke dekha hoga
Ek mahfil mein kai mahfilen hoti hain shareek
Jis ko bhi paas se dekho ge akela hoga
ندا فاضلی جن کا اصل نام مقتدی حسن فاضلی تھا جدید اردو شاعری کے ان نمایاں اور منفرد لہجے کے شاعر تھے جنہوں نے روزمرہ زندگی، انسان کے دکھ اور سماجی ا...
مکمل تعارف پڑھیں