ن م راشد، جن کا اصل نام نذر محمد راشد تھا، یکم اگست 1910 کو علی پور چٹھہ میں پیدا ہوئے اور اردو ادب میں جدید آزاد نظم کے بانی کے طور پر اپنی منفرد شناخت قائم کی۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی ادب کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ سول سروس اور پھر اقوامِ متحدہ کے ادارے آئی ایل او سے وابستہ رہے، جس کے سبب ایران، نیویارک، جنیوا اور لندن میں طویل قیام نے ان کے فکری اور تخلیقی مزاج کو عالمی وسعت بخشی۔ فارسی زبان، رنگوں اور موسیقی سے گہری دلچسپی نے ان کی شاعری میں علامتی اور وجودی جہتوں کو مہمیز دی، جب کہ “ماورا”، “ایران میں اجنبی”، “لا = انسان” اور “گماں کا ممکن” جیسی کتابوں نے اردو شاعری میں ایک نئے فکری دھارے کی بنیاد رکھی۔
ن م راشد نہ صرف شاعر تھے بلکہ ایک متحرک مفکر اور تنقیدی مصنف بھی تھے۔ انہوں نے اردو ادب میں جدیدیت، وجودیت اور علامت پسندی کے موضوعات کو متعارف کروایا اور نوجوان شاعروں کے لیے رہنمائی فراہم کی۔ ان کی شاعری میں فلسفیانہ گہرائی، تنہائی، انسان کی داخلی کشمکش اور روحانی تجربات کی عکاسی نمایاں ہے۔ راشد کی زندگی میں سفر، تنہائی اور مطالعہ نے ان کی تخلیقی سوچ کو پروان چڑھایا۔
ان کی شخصیت میں انفرادیت اور آزادخیالی نمایاں تھی۔ انہوں نے وصیت کی تھی کہ انہیں دفن نہ کیا جائے بلکہ جلایا جائے، اور یہی عمل لندن میں اُن کی وفات کے بعد انجام پایا۔ ن م راشد کی شاعری آج بھی اردو ادب میں ایک روشن اور جاندار مقام رکھتی ہے، جسے فکری اور جمالیاتی لحاظ سے لازوال سمجھا جاتا ہے۔ وہ 9 اکتوبر 1975 کو لندن میں وفات پا گئے۔