search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
نوشی گیلانی
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
دل کا کیا ہے دل نے کتنے منظر دیکھے لیکن
سلام رہبر آزادی حیات سلام
مجھ کو رسوا سر محفل تو نہ کروایا کرے
محبتیں جب شمار کرنا تو سازشیں بھی شمار کرنا
اداس شام کی ایک نظم
ہر ذرۂ امید سے خوشبو نکل آئے
بند ہوتی کتابوں میں اڑتی ہوئی تتلیاں ڈال دیں
اعتراف
ہمارے درمیاں عہد شب مہتاب زندہ ہے
عشق کرو تو یہ بھی سوچو عرض سوال سے پہلے
دل تھا کہ خوش خیال تجھے دیکھ کر ہوا
وہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہے
تتلیاں جگنو سبھی ہوں گے مگر دیکھے گا کون
ہر جانب ویرانی بھی ہو سکتی ہے
کہیں کرتے نہیں اظہار، چپ ہیں
رُکتا بھی نہیں ٹھیک سے ، چلتا بھی نہیں ھے
ہمیں کس ہاتھ کی محبوب ریکھاؤں میں رہنا تھا
یہ نام ممکن نہیں رہے گا مقام ممکن نہیں رہے گا
ایک جیسا مکالمہ
خواب کے قیدی رہے تو کچھ نظر آتا نہ تھا
محبتوں میں خسارہ عجیب لگتا ہے
ہوا کو لکھنا جو آگیا ہے
ورثہ
کوئی مجھ کو مرا بھر پور سراپا لا دے
بہت تاریک صحرا ہو گیا ہے
تمام دکھ ہے
دل کی منزل اس طرف ہے گھر کا رستہ اس طرف
عجیب خواہش ہے شہر والوں سے چھپ چھپا کر کتاب لکھوں
کون روک سکتا ہے
پلٹ کر پھر کبھی اُس نے پُکارا ہی نہیں ہے
اب کس سے کہیں اور کون سنے جو حال تمہارے بعد ہوا