اجنبی! کبھی زندگی میں اگر اکیلا ہو اور درد حد سے گزر جائے آنکھیں تری با ت بے بات رو پڑیں تب کوئی اجنبی تیر ی تنہائی کے چاند کا نرم ہالہ بنے تیری قامت کا سایہ بنے تیرے زخموں کا سایہ بنے تیری پلکوں سے شبنم چُنے تیرے دُکھ کا مسیحا بنے!
پروین شاکر