جو پھسلا میرے ہاتھ سے وہ پَل نہیں ملا
میرا گزرا ہوا کل مجھے واپس نہیں ملا
لوگوں سے بھری دنیا میں ڈھونڈا بہت مگر
فرشتے ملے مجھے بہت لیکن انساں نہیں ملا
سوچا کسی کے دل میں اب گھر بنا لوں میں
لیکن کسی کا دل مجھے ثابت نہیں ملا
ایسا نہیں ہے کہ مجھے منزل نہیں ملی
منزل ملی مگر ،،، کبھی راستا نہیں ملا
برسوں سے میں نے ڈھونڈا لیکن مجھے
اس شہر میں کوئی بھی تیرے جیسا نہیں ملا.!!!
پروین شاکر