کچھ کم ہوش یہ کہتے ہیں
کہ اس لڑکی کی شاعری میں سوائے بارش کی ہنسی،
پھولوں کی مسکراہٹ،
چڑیوں کے گیتوں
اور اس کی اپنی سرگوشیوں کے
اور کچھ نہیں،
اگر زندگی سے محبت کرنا جرم ہے
تو یہ لڑکی پورے غرور کے ساتھ
اپنے جرم کا اعتراف کرتی ہے۔
نیم خوابی کا فسوں بڑی دیر سے ٹوٹتا ہے،
پر جب ایسا ہوا
تو روزنِ زنداں سے آنے والی،
اجنبی سیاہ بخت سر زمینوں کی ہوا
کے آنسوؤں کو اس نے اپنی پلکوں پر محسوس کیا ہے،
ان کا نمکین ذائقہ،
اس کی شہد آشنا زبان نے چکھا ہے،
لیکن جو لڑکی بسنت بہار کی نرم ہنسی
میں بھیگ چکی ہو،
اسے خزاں سے دکھ تو ہوسکتا ہے عناد نہیں،
جس کے اکیلے گھر میں
شدید چڑیا کا گیت چہرے اگا چکا ہو،
اسے سناٹے سے وحشت تو ہوسکتی ہے
نفرت نہیں
پروین شاکر