search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
رابطہ
پروین شاکر
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
بعد مدت اسے دیکھا لوگو۔۔
دروازہ جو کھولا تو نظر آئے کھڑے وہ
اجنبی!
رنج فراق یار میں رسوا نہیں ہوا
یہ کب کہتی ہوں تم میرے گلے کا ہار ہوجاؤ
فبأیّ آلاء ربکما تکذبٰن
ہوا جام صحت تجویز کرتی ہے
مقتل وقت میں خاموش گواہی کی طرح
تخت ہے اور کہانی ہے وہی
عذاب اپنے بکھیروں کہ مُرتسم کر لوں
کتھا رس
بس اتنا یاد ہے
ہمیں خبر ہے ہَوا کا مزاج رکھتے ہو
خیال و خواب ہوا برگ و بار کا موسم
واہمہ
سوچوں تو وہ ساتھ چل رہا ہے
شام آئی تری یادوں کے ستارے نکلے
کچھ کم ہوش یہ کہتے ہیں
وہی نرم لہجہ
آج کی شب تو کسی طور گزر جائے گی
جب کبھی خوبیٔ قسمت سے تجھے دیکھتے ہیں
خوشی کی بات ہے یا دکھ کا منظر دیکھ سکتی ہوں
اتنے اچھے موسم میں روٹھنا نہیں اچھا
تازہ محبتوں کا نشہ جسم و جاں میں ہے
جو پھسلا میرے ہاتھ سے وہ پَل نہیں ملا
اتنا معلوم ہے!
پت جھڑ کے موسم میں تجھ کو
وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا
وہ ہم نہیں جنہیں سہنا یہ جبر آ جاتا
وقت رخصت آ گیا دل پھر بھی گھبرایا نہیں
ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیا
تیری خوشبو کا پتا کرتی ہے
تیرا گھر اور میرا جنگل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ
تراش کر مرے بازو اڑان چھوڑ گیا
شوق رقص سے جب تک انگلیاں نہیں کھلتیں
شب وہی لیکن ستارہ اور ہے
رستہ بھی کٹھن دھوپ میں شدت بھی بہت تھی
قید میں گزرے گی جو عمر بڑے کام کی تھی
قدموں میں بھی تکان تھی گھر بھی قریب تھا
پورا دکھ اور آدھا چاند
پا بہ گل سب ہیں رہائی کی کرے تدبیر کون
مشکل ہے کہ اب شہر میں نکلے کوئی گھر سے
کیا کرے میری مسیحائی بھی کرنے والا
کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی
کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی
کچھ فیصلہ تو ہو کہ کدھر جانا چاہیے
کھلی آنکھوں میں سپنا جھانکتا ہے
کمال ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی
جستجو کھوئے ہوؤں کی عمر بھر کرتے رہے
اک ہنر تھا کمال تھا کیا تھا
حرف تازہ نئی خوشبو میں لکھا چاہتا ہے
ہم نے ہی لوٹنے کا ارادہ نہیں کیا
گلاب ہاتھ میں ہو آنکھ میں ستارہ ہو
گواہی کیسے ٹوٹتی معاملہ خدا کا تھا
گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرح
ایک سورج تھا کہ تاروں کے گھرانے سے اٹھا
دعا کا ٹوٹا ہوا حرف سرد آہ میں ہے
دل کا کیا ہے وہ تو چاہے گا مسلسل ملنا
دھنک دھنک مری پوروں کے خواب کر دے گا
ڈسنے لگے ہیں خواب مگر کس سے بولئے
چراغ راہ بجھا کیا کہ رہنما بھی گیا
چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا
چارہ سازوں کی اذیت نہیں دیکھی جاتی
بچھڑا ہے جو اک بار تو ملتے نہیں دیکھا
بخت سے کوئی شکایت ہے نہ افلاک سے ہے
بجا کہ آنکھ میں نیندوں کے سلسلے بھی نہیں
بہت رویا وہ ہم کو یاد کر کے
بارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہو گئے
بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا
اشک آنکھ میں پھر اٹک رہا ہے
اپنی تنہائی مرے نام پہ آباد کرے
اپنی رسوائی ترے نام کا چرچا دیکھوں
اپنی ہی صدا سنوں کہاں تک
عکس خوشبو ہوں بکھرنے سے نہ روکے کوئی
اگرچہ تجھ سے بہت اختلاف بھی نہ ہوا
اب اتنی سادگی لائیں کہاں سے
اب بھلا چھوڑ کے گھر کیا کرتے