پروین شاکر کا کلام
- 01 پھر یوں ہوا کے ساتھ تیرا چھوڑنا پڑا Phir yun hua ke saath tera chhodna pada آواز میں دستیاب
- 02 گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرح Gaye mausam mein jo khilte the gulabon ki tarah آواز میں دستیاب
- 03 اسے اپنے فردا کی فکر تھی، جو میرا واقفِ حال تھا Usay apne farda ki fikr thi, jo mera waqif-e-haal tha آواز میں دستیاب
- 04 بعد مدت اسے دیکھا لوگو۔۔ Baad muddat use dekha logo آواز میں دستیاب
- 05 دروازہ جو کھولا تو نظر آئے کھڑے وہ Darwaza jo khola to nazar aaye khaṛe wo آواز میں دستیاب
- 06 اجنبی! Ajnabi! آواز میں دستیاب
- 07 رنج فراق یار میں رسوا نہیں ہوا Ranj-e-firaq-e-yaar mein ruswa nahin hua آواز میں دستیاب
- 08 یہ کب کہتی ہوں تم میرے گلے کا ہار ہوجاؤ Yeh kab kehti hoon tum mere gale ka haar ho jao آواز میں دستیاب
- 09 فبأیّ آلاء ربکما تکذبٰن Fabi Ayyi Ala-i Rabbikuma Tukazziban آواز میں دستیاب
- 10 ہوا جام صحت تجویز کرتی ہے Hawa jaam-e-sehhat tajweez karti hai آواز میں دستیاب
- 11 مقتل وقت میں خاموش گواہی کی طرح Maqtal-e-waqt mein khamosh gawahi ki tarah آواز میں دستیاب
- 12 تخت ہے اور کہانی ہے وہی Takht hai aur kahani hai wahi آواز میں دستیاب
- 13 عذاب اپنے بکھیروں کہ مُرتسم کر لوں Azab apne bikhairun ke murattasim kar loon آواز میں دستیاب
- 14 کتھا رس Katha Ras آواز میں دستیاب
- 15 بس اتنا یاد ہے Bas itna yaad hai آواز میں دستیاب
- 16 ہمیں خبر ہے ہَوا کا مزاج رکھتے ہو Hamein khabar hai hawa ka mizaaj rakhte ho آواز میں دستیاب
- 17 خیال و خواب ہوا برگ و بار کا موسم Khayal o khwab hua barg o baar ka mausam آواز میں دستیاب
- 18 واہمہ Wahma آواز میں دستیاب
- 19 سوچوں تو وہ ساتھ چل رہا ہے Sochun to woh saath chal raha hai آواز میں دستیاب
- 20 شام آئی تری یادوں کے ستارے نکلے Shaam aai teri yaadon ke sitare nikle آواز میں دستیاب
- 21 کچھ کم ہوش یہ کہتے ہیں Kuch kam hosh yeh kehte hain آواز میں دستیاب
- 22 وہی نرم لہجہ Wahi narm lehja آواز میں دستیاب
- 23 آج کی شب تو کسی طور گزر جائے گی Aaj ki shab toh kisi taur guzar jaayegi آواز میں دستیاب
- 24 جب کبھی خوبیٔ قسمت سے تجھے دیکھتے ہیں Jab kabhi khoobi-e-qismat se tujhe dekhte hain آواز میں دستیاب
- 25 خوشی کی بات ہے یا دکھ کا منظر دیکھ سکتی ہوں Khushi ki baat hai ya dukh ka manzar dekh sakti hoon آواز میں دستیاب
- 26 اتنے اچھے موسم میں روٹھنا نہیں اچھا Itne achhe mausam mein roothna nahi achha آواز میں دستیاب
- 27 تازہ محبتوں کا نشہ جسم و جاں میں ہے Taza mohabbaton ka nasha jism-o-jaan mein hai آواز میں دستیاب
- 28 جو پھسلا میرے ہاتھ سے وہ پَل نہیں ملا Jo phisla mere haath se woh pal nahi mila آواز میں دستیاب
- 29 اتنا معلوم ہے! Itna maloom hai! آواز میں دستیاب
- 30 پت جھڑ کے موسم میں تجھ کو Pat jhad ke mausam mein tujh ko آواز میں دستیاب
- 31 وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا Woh To Khushboo Hai Hawaon Mein Bikhar Jayega آواز میں دستیاب
- 32 وہ ہم نہیں جنہیں سہنا یہ جبر آ جاتا Woh Hum Nahin Jinhein Sehna Yeh Jabr Aa Jata آواز میں دستیاب
- 33 وقت رخصت آ گیا دل پھر بھی گھبرایا نہیں Waqt-e-Rukhsat Aa Gaya Dil Phir Bhi Ghabraya Nahin آواز میں دستیاب
- 34 ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیا Tooti Hai Meri Neend Magar Tum Ko Us Se Kya آواز میں دستیاب
- 35 تیری خوشبو کا پتا کرتی ہے Teri Khushboo Ka Pata Karti Hai آواز میں دستیاب
- 36 تیرا گھر اور میرا جنگل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ Tera Ghar Aur Mera Jungle Bheegta Hai Saath Saath آواز میں دستیاب
- 37 تراش کر مرے بازو اڑان چھوڑ گیا Tarash Kar Mere Bazoo Udaan Chhod Gaya آواز میں دستیاب
- 38 شوق رقص سے جب تک انگلیاں نہیں کھلتیں Shauq-e-Raqs Se Jab Tak Ungliyan Nahin Khultien آواز میں دستیاب
- 39 شب وہی لیکن ستارہ اور ہے Shab Wahi Lekin Sitara Aur Hai آواز میں دستیاب
- 40 رستہ بھی کٹھن دھوپ میں شدت بھی بہت تھی Rasta Bhi Katthan Dhoop Mein Shiddat Bhi Bahut Thi آواز میں دستیاب
- 41 قید میں گزرے گی جو عمر بڑے کام کی تھی Qaid Mein Guzre Gi Jo Umar Bade Kaam Ki Thi آواز میں دستیاب
- 42 قدموں میں بھی تکان تھی گھر بھی قریب تھا Qadmon Mein Bhi Takaan Thi Ghar Bhi Qareeb Tha آواز میں دستیاب
- 43 پورا دکھ اور آدھا چاند Poora Dukh Aur Aadha Chand آواز میں دستیاب
- 44 پا بہ گل سب ہیں رہائی کی کرے تدبیر کون Pā ba gul sab hī haiñ rihāī kī kare tadbeer kaun آواز میں دستیاب
- 45 مشکل ہے کہ اب شہر میں نکلے کوئی گھر سے Mushkil hai ke ab shehar maiñ nikle koī ghar se آواز میں دستیاب
- 46 کیا کرے میری مسیحائی بھی کرنے والا Kyā kare merī maseehāī bhī karne vālā آواز میں دستیاب
- 47 کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی Kū ba kū phail gaī bāt shanāsāī kī آواز میں دستیاب
- 48 کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی Kuchh toh havā bhī sard thī kuchh thā terā ḳhayāl bhī آواز میں دستیاب
- 49 کچھ فیصلہ تو ہو کہ کدھر جانا چاہیے Kuchh faisla toh ho ke kidhar jānā chāhiye آواز میں دستیاب
- 50 کھلی آنکھوں میں سپنا جھانکتا ہے Khulī āñkhoñ maiñ sapnā jhānktā hai آواز میں دستیاب
- 51 کمال ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی Kamāl-e-zabt ko ḳhud bhī toh āzmāūñgī آواز میں دستیاب
- 52 جستجو کھوئے ہوؤں کی عمر بھر کرتے رہے Justujū kho'e hu'oñ kī umr bhar karte rahe آواز میں دستیاب
- 53 اک ہنر تھا کمال تھا کیا تھا Ek hunar thā kamāl thā kyā thā آواز میں دستیاب
- 54 حرف تازہ نئی خوشبو میں لکھا چاہتا ہے Harf-e-tāza naī khushboo maiñ likhā chāhtā hai آواز میں دستیاب
- 55 ہم نے ہی لوٹنے کا ارادہ نہیں کیا Ham ne hī lauṭne kā irāda nahīñ kiyā آواز میں دستیاب
- 56 گلاب ہاتھ میں ہو آنکھ میں ستارہ ہو Gulāb haath mein ho aankh mein sitāra ho آواز میں دستیاب
- 57 گواہی کیسے ٹوٹتی معاملہ خدا کا تھا Gavāhī kaise ṭūṭtī mu'āmala ḳhudā kā thā آواز میں دستیاب
- 58 گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرح Ga'e mausam mein jo khilte the gulāboñ kī tarah آواز میں دستیاب
- 59 ایک سورج تھا کہ تاروں کے گھرانے سے اٹھا Ek sūraj thā ke tāroñ ke gharāne se uṭhā آواز میں دستیاب
- 60 دعا کا ٹوٹا ہوا حرف سرد آہ میں ہے Du'ā kā ṭūṭā huā harf sard-āh maiñ hai آواز میں دستیاب
- 61 دل کا کیا ہے وہ تو چاہے گا مسلسل ملنا Dil kā kyā hai voh toh chāhe gā musalsal milnā آواز میں دستیاب
- 62 دھنک دھنک مری پوروں کے خواب کر دے گا Dhanak dhanak mirī pooroñ ke khvāb kar de gā آواز میں دستیاب
- 63 ڈسنے لگے ہیں خواب مگر کس سے بولئے Ḍasne lage haiñ khvāb magar kis se boliye آواز میں دستیاب
- 64 چراغ راہ بجھا کیا کہ رہنما بھی گیا Chirāgh-e-rāh bujhā kyā ke rahnumā bhī gayā آواز میں دستیاب
- 65 چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا Chalne kā hausla nahīñ rukna muhāl kar diyā آواز میں دستیاب
- 66 چارہ سازوں کی اذیت نہیں دیکھی جاتی Chāra-sāzoñ kī aziyat nahīñ dekhī jātī آواز میں دستیاب
- 67 بچھڑا ہے جو اک بار تو ملتے نہیں دیکھا Bichhṛa hai jo ek baar toh milte nahīñ dekha آواز میں دستیاب
- 68 بخت سے کوئی شکایت ہے نہ افلاک سے ہے Bakht se koi shikaayat hai na aflaak se hai آواز میں دستیاب
- 69 بجا کہ آنکھ میں نیندوں کے سلسلے بھی نہیں Bajā ke aankh mein neendoñ ke silsile bhī nahīñ آواز میں دستیاب
- 70 بہت رویا وہ ہم کو یاد کر کے Bahut roya woh hum ko yaad kar ke آواز میں دستیاب
- 71 بارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہو گئے Barish hui to phoolon ke tan chaak ho gaye آواز میں دستیاب
- 72 بادباں کھلنے سے پہلے کا اشارہ دیکھنا Bādbāñ khulne se pehle kā ishāra dekhna آواز میں دستیاب
- 73 اشک آنکھ میں پھر اٹک رہا ہے Ashk aankh mein phir aṭak raha hai آواز میں دستیاب
- 74 اپنی تنہائی مرے نام پہ آباد کرے Apni tanhaai mere naam pe aabaad kare آواز میں دستیاب
- 75 اپنی رسوائی ترے نام کا چرچا دیکھوں Apni ruswai tere naam ka charcha dekhun آواز میں دستیاب
- 76 اپنی ہی صدا سنوں کہاں تک Apni hi sada sunun kahan tak آواز میں دستیاب
- 77 عکس خوشبو ہوں بکھرنے سے نہ روکے کوئی Aks-e-khushboo hun bikharne se na roke koi آواز میں دستیاب
- 78 اگرچہ تجھ سے بہت اختلاف بھی نہ ہوا Agarche tujh se bahut ikhtilaaf bhi na hua آواز میں دستیاب
- 79 اب اتنی سادگی لائیں کہاں سے Ab itni saadgi laayen kahan se آواز میں دستیاب
- 80 اب بھلا چھوڑ کے گھر کیا کرتے Ab bhala chhod ke ghar kya karte آواز میں دستیاب