جب اچانک مجھے یاد آپ کی آ جاتی ہے
دل کی دنیا میں عجب حشر اٹھا جاتی ہے
جب وہ خوشبوئے بدن لاتی ہے باد سحری
میری امید کے غنچوں کو کھلا جاتی ہے
تھرتھرا اٹھتے ہیں سن سن کے شب غم تارے
آسماں تک مرے نالوں کی صدا جاتی ہے
لمحہ بھر کو جو ذرا چین سے سو جاتا ہوں
آپ کی یاد مجھے آ کے ستا جاتی ہے
فصل گل ہوتی ہے دو روز کی مہمان مگر
آکے گلشن میں نئی دھوم مچا جاتی ہے
اب نہیں کوئی ضرورت کسی قاصد کی نصیرؔ
لے کے پیغام مرا آہ رسا جاتی ہے
پیر نصیرالدین