پیر نصیرالدین

شاعر

تعارف شاعری

ٹکرا گئی تھی ان کی نظر سے نظر کہیں

ٹکرا گئی تھی ان کی نظر سے نظر کہیں
دل کو مرے نہ چین ملا عمر بھر کہیں
ہو جائیے کبھی نہ کبھی جلوہ گر کہیں
سر پھوڑ لے نہ آپ کا آشفتہ سر کہیں
قلب و نظر میں حشر بپا جان مضطرب
اس راہ سے ہوا نہ ہو ان کا گزر کہیں
اے چارہ ساز سر نہ کھپا اپنی راہ لے
اچھا ہوا ہے عشق میں زخم جگر کہیں
للہ آپ حسن کے تیور سنبھالئے
برباد ہو نہ جائے متاع نظر کہیں
کہنا پڑے گی کھل کے مجھے داستان دل
جب چھڑ گئی تو بات ہوئی مختصر کہیں
مجروح نیش وقت کا اللہ رے علاج
مرہم کہیں ہے زخم کہیں چارہ گر کہیں
دل چاہتا ہے شام تمنا شب وصال
لیکن ڈھلے تو غم کی کڑی دوپہر کہیں
مجھ سے کھیچے ہوئے ہیں تو خوش ہیں وہ غیر سے
اس نے لگائی ہو نہ ادھر کی ادھر کہیں
ملتا ہے آج کل ہمیں اک شخص اس طرح
بیگانہ وار وہ بھی سر رہ گزر کہیں
سنتا ہوں لوٹ لیتے ہیں وہ اک نگاہ میں
خود بھی نہ لٹ گیا ہو مرا نامہ بر کہیں
آئے ہیں آپ اور مرے گھر زہے نصیب
دھوکا نہ کھا رہی ہو یہ میری نظر کہیں
سوچیں تو کہہ رہے ہیں کسے بے وفا نصیرؔ
الزام آ نہ جائے یہ اپنے ہی سر کہیں

پیر نصیرالدین