نہ وہ اہتام ِ مئے کہن ، نہ وہ میکدے کا نظام ہے
نہ وہ رند ہیں ، نہ وہ ہاو ہوَ نہ وہ دور ہے ، نہ وہ جام ہے
وہ ہے خوش نصیب جسے ملے ، مئے معرفت کا یہ جام ہے
جو وہ خود پلائیں حلال ہے ، نہ پلائیں وہ ، تو حرام ہے
زرا دیکھ اپنے مریض کو کہ ہر اس کی سانس میں آج بھی
ترے انتظار کی ہے کسک، تری یاد ہے ، ترا نام ہے
کہوں کس سے قصہ ء شوق میں، نہ وہ ہمنوا ، نہ وہ ہم زباں
نہ وہ ہمسفر ، نہ وہ کارواں، نہ وہ صبح ہے نہ وہ شام ہے
چلی ایسی بادِ خزاں اثر ، کہ ہوں دامِ غم میں شکستہ پر
نہ بتوں کی دل میں ہے آرزو، نہ وہ شوقِ جلوہ ء بام ہے
وہ نیاز و ناز کی محفلیں، نہ وہ چاند ہے نہ و ہ چاندنی
نہ وہ رات ہے ، نہ وہ بات ہے ، نہ و ہ حسنِ ماہ تمام ہے
نہ فراقِ یار کے مشغلے ، نہ وہ بزمِ شوق کے ولولے
نہ وہ سوزِ سینہ گداز ہے ، نہ وہ آہِ برق خرام ہے
یہ عجیب دور ہے رونما کی ادب کا پاس نہیں رہا
نہ وہ اہل ِ درد کی حرمتیں ، نہ وہ احترام ِ مقام ہے
کہوں میں بھلا ، وہ براکہیں، کہوں میں وفا ، وہ جفا کریں
انہیں اپنے کام سے ہے غرض، مجھے اپنے کام سے کام ہے
وہ ہزار کوئی جتن کرے ، ترے دسترس سے نہ بچ سکے
تری زلف حلقہ بدوش ہے ، تری آنکھ بادہ بہ جام ہے
ترے سنگِ در پہ جو ہو ادا ، وہی ایک سجدہ ہے کام کا
یہی اک نماز ہے عشق کی جو بغیر شرطِ امام ہے
میں نصیر فقر سرشت ہوں ، کہ مرید ِ ساقی ِ چشت ہوں
مجھے بادشاہوں سے کام کیا، انہیں دور ہی سے سلام ہے !!!
پیر نصیرالدین