تم اک نگاہ کبھی دل پہ ڈال کر دیکھو
اس آئنے کی ذرا دیکھ بھال کر دیکھو
چلو یہ زعم بھی اپنا نکال کر دیکھو
تمارے در پہ ہوں اب اپنے ٹال کر دیکھو
جواب تم کو ملے گا سوال کر دیکھو
ہماری آنکھوں میں آنکھیں تو ڈال کر دیکھو
تماری راہ میں مٹنا ہے زندگی میری
یقین نہیں تو مجھے پائمال کر دیکھو
یہ غیر ہے نہ کسی کا ہوا نہ ہو گا کبھی
تم آستین میں یہ سانپ پال کر دیکھو
بڑا ہی لطف تھا آپس کی اس محبت میں
جو ہو سکے تو وہ رشتے بحال کر دیکھو
ہزار تاڑنے والے ہیں ان اشاروں کے
ادھر ادھر بھی ذرا دیکھ بھال کر دیکھو
جناب شیخ کسی کی کبھی نہیں سنتے
نتیجہ کچھ بھی نہیں قیل و قال کر دیکھو
خمار میں ہوں تو رندوں کا امتحاں بے سود
مزہ تو جب ہے کہ ساغر اچھال کر دیکھو
نظر کی ٹھیس لگے گی تو ہو گا چکنا چور
دل آئینہ ہے ذرا تم سنبھال کر دیکھو
امید وصل نہیں کچھ جواب تو دیں گے
نصیرؔ آج تم ان سے سوال کر دیکھو
پیر نصیرالدین