یہ مقدر کا لکھا ہے اب یہ کٹ سکتا نہیں
راہ سے ان کی ہمارا پاؤں ہٹ سکتا نہیں
دیکھ کر رنگِ چمن آنسو بہانے چاہئیں
کیا ہمارا خون دل پھولوں میں بٹ سکتا نہیں
کیسی کیسی محفلیں تھیں کیسے کیسے لوگ تھے
وہ سنہرا دور ماضی کیا پلٹ سکتا نہیں
دم قدم کے ساتھ رہتی ہے زمانے کی ہوا
ان کے قدموں سے کوئی ذرہ لپٹ سکتا نہیں
دل کے ذرے منتشر ہو کر ملے ہیں خاک میں
جو بکھر جائے وہ شیرازہ سمٹ سکتا نہیں
حاسدان تیرہ باطن سے کوئی کہہ دے نصیرؔ
علم کا رتبہ بڑھا کرتا ہے گھٹ سکتا نہیں
پیر نصیرالدین