پریم واربرٹنی

شاعر

تعارف شاعری

تعارف

پریم وار برٹنی 9نومبر 1930ءبروز اتوار ڈنگہ میں پیدا ہوئے۔ ان کی پیدائش کے بعد ان کے والد اہل و عیال سمیت ننکانہ صاحب کے ایک قصبے واربرٹن بسلسلہ روزگار منتقل ہو گئے۔ پریم نے ابتدائی تعلیم وہیں سے حاصل کی اور میٹرک بھی واربرٹن سکول سے ہی پاس کیا۔حساس دل نوجوان مستقبل کے سپنے دیکھ رہا تھا کہ اگست 1947ءکی تقسیمِ ہند نے اردگرد کا نقشہ ہی بدل دیا۔ کشت و خون نے مہاجرت کی نئی منزلوں کی طرف دھکیل دیا۔پریم کا ہندو گھرانہ بھی بٹوارے کی ہجرت کا حصہ بنا۔تقسیم کی ہنگامہ خیزی میں بھی چھوٹی سی ریاست مالیر کوٹلہ بھارت کو محفوظ مقام سمجھ کر ادھر کا رخ کیا ،جہاں مغربی پنجاب سے جانے والے بہت سے تارکینِ وطن کے قافلے جا کر آباد ہو رہے تھے۔ بظاہر لاپروا اور کھلنڈرے سے مزاج کے نوجوان کے حساس دل پر تقسیم اور ہجرت کے گہرے نقوش مرتب ہوئے۔

ریم وار برٹنی کی قلم کی نوک سے 1948ءمیں پہلی تحریر افسانہ کے روپ میں نکلی۔ مسز پرمجیت پریم وار برٹنی کے مطابق ان کے آباءو اجداد میں چونکہ کوئی شاعر یا ادیب نہیں ہوا تھا اس لیے گھر والوں نے اس '' متعدی مرض '' سے بچنے کی تلقین کے ساتھ کوئی اور راستہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا۔مگر ان کی قسمت میں یارانِ قلم کے کارواں کا حصہ بننا رقم تھا؛ چنانچہ اہلِ خانہ کے مشوروں کو پس ِپشت ڈالتے ہوئے مارچ 1950ءمیں انہوں نے '' آئینہِ جذبات'' کے عنوان سے ایک نظم کہی جو اس وقت روزنامہ پرتاپ دہلی میں شائع ہوئی۔اس سے انہیں بہت پذیرائی ملی جس نے ان کے ادبی و تخلیقی میلان کو جلا بخشی۔ ان کا یہ قدم ان کے سپنوں کی منزل کی تلاش میں کلیدی ثابت ہوا۔

انکے شعری سفر کی ابتدا روزنامہ اخبارات سے ہوئی مگر جلد ہی وہ’ بیسویں صدی‘ اور’ شمع‘ جیسے مقبول ماہناموں کی زینت بننے لگے۔ رفتہ رفتہ وہ ممتاز ادبی جرائد، افکار،شاعر، ادبِ لطیف، پگڈنڈی، سویرا اور نقوش میں متواتر شائع ہونے لگے۔1955ءمیں پریم واربرٹنی ریڈیو کےلئے بھی لکھنے لگے۔ ریڈیو سے ان کے نشری سلسلے کا آغاز جالندھر ریڈیو اسٹیشن سے ہوا اور پھر بڑھتے بڑھتے یہ سلسلہ آل انڈیا ریڈیو کے لگ بھگ سبھی اسٹیشنوں تک پھیلتا گیا۔پہلے اخبارات و جرائد اور پھر ریڈیو سے پریم کے کلام کو شہرتِ عام حاصل ہوئی۔ ان کی کئی نظمیں دیگر زبانوں مثلا ًپنجابی، ہندی، انگریزی اور روسی زبان میں بھی ترجمہ ہوئیں۔ صرف 49 سال کی عمر میں 10 اکتوبر 1979ءبروز بدھ موت نے انہیں اپنی بانہوں میں لے لیا۔ موت کی نامہربانیوں سے آشنا پریم وار برٹنی نے 1977ءمیں ہی اپنی آنکھیں عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ کسی اور کی اندھیری دنیا میں اجالا کرسکیں۔چنانچہ اپنے انتقال کے دوسرے دن 11اکتوبر 1979ءسے ہی پریم نے کسی اور کی بے نورآنکھوں کا نور بن کر دنیا کو دیکھنا شروع کردیا تھا۔