پنجابی زبان کا ادبی سفر باقاعدہ طور پر بابا فرید الدین گنج شکر سے شروع ہوتا ہے جنہیں پنجابی کا اولین اور مستند شاعر مانا جاتا ہے۔ اُن کا کلام پنجابی زبان کی پہلی محفوظ تحریری شکل ہے جنہوں نے اس خطّے کی صوفیانہ روایت، عوامی دانش اور روزمرّہ اظہار کو ادبی وقار عطا کیا۔ بابا فرید کے بعد گرو نانک، شاہ حسین، سلطان باہو اور بلھے شاہ جیسے بڑے صوفی شعرا نے پنجابی کو ایک بھرپور فکری اور روحانی زبان بنایا جس میں انسان دوستی، حقیقت شناسی اور عشقِ الٰہی سب ایک ہی وقت میں جلوہ گر نظر آتے ہیں۔ انہی صوفیانہ بنیادوں نے پنجابی کی شناخت کو مضبوط کیا اور اسے ایک زندہ اور متحرک ادبی زبان کی حیثیت دلائی۔
پنجابی زبان کا تاریخی ارتقا دو بنیادی رسم الخط۔گُرمُکھی اور شاہ مکھی۔کے زیرِ اثر جاری رہا۔ مشرقی پنجاب میں گُرمُکھی نے مذہبی و تعلیمی ڈھانچے کے ذریعے زبان کو معیاری اور منظم کیا، جبکہ مغربی پنجاب میں شاہ مکھی (نستعلیق پر مبنی) نے پنجابی کی عوامی، ادبی اور صحافتی روایت کو طاقت بخشی۔ دونوں رسم الخط پنجابی کی صوتیات، لہجے اور فکری روایت کے مختلف رخوں کی نمائندگی کرتے ہیں، اور ان کے ذریعے پنجابی ادب نے سرحد کے دونوں طرف اپنی الگ مگر مضبوط شناخت قائم کی۔ قصّہ گوئی، کلاسیکی کہانیاں جیسے ہیّر، سوہنی مہینوال، مرزا صاحباں اور صوفیانہ کافیاں پنجابی کے ادبی ورثے کو زمانوں تک زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
اسی خطے میں پنجابی کے ساتھ ساتھ سرائیکی بھی ایک گہری تاریخی جڑیں رکھنے والی زبان کے طور پر پروان چڑھی، جو مغربی پنجابی/لہندا سے قریبی لسانی رشتہ رکھتی ہے۔ سرائیکی کے صوفی شاعر، خصوصاً خواجہ غلام فرید، پنجابی اور سرائیکی دونوں روایتوں کو ملاتے ہیں اور ثابت کرتے ہیں کہ یہ خطہ ہمیشہ سے لسانی و تہذیبی ہم آہنگی کا مرکز رہا ہے۔ پنجابی اور سرائیکی دونوں زبانیں صوفیانہ فکر، روایت، لوک داستانوں اور علاقائی ثقافت کی امین ہیں۔اسی لیے ان کا ادبی ورثہ آج بھی پاکستان و بھارت کے کروڑوں لوگوں کی شناخت، احساس اور ثقافتی رنگ کو تشکیل دیتا ہے۔
پنجابی اور سرائیکی دونوں زبانیں محض گفت و شنید کے ذرائع نہیں بلکہ برصغیر کی تہذیبی روح کا آئینہ ہیں۔ دونوں نے صدیوں تک عوام کی روزمرّہ زندگی، محبت، جدوجہد، مزاحمت، صوفیانہ وجدان اور لوک دانش کو اپنے اندر سموئے رکھا۔