تعارف
قمر جلالوی، جن کا اصل نام سید محمد حسین تھا، اردو کے معروف غزل گو شاعر تھے۔ ان کی پیدائش 1887ء میں برصغیر کے شہر جلالہ، ضلع علی گڑھ (اترپردیش، ہندوستان) میں ہوئی۔ چھوٹی عمر سے ہی ان میں شاعری کی خاص دلچسپی پیدا ہوئی اور وہ اردو کلاسیکی غزلوں کے مطالعے میں مشغول ہو گئے۔ نوجوانی میں ہی انہوں نے غزل گوئی کا آغاز کیا اور اپنی شاعری میں محبت، غم و درد، اور زندگی کے تلخ تجربات کو نہایت نفاست اور سلیس انداز میں بیان کیا۔ ان کا کلام عام فہم، نغمگی سے بھرپور اور کلاسیکی اردو غزل کے روایتی اسلوب سے مزین تھا، جس کی وجہ سے وہ مشاعروں میں بہت مقبول ہوئے۔
قیامِ پاکستان کے بعد، قمر جلالوی نے 1947ء میں کراچی ہجرت کی۔ یہاں انہوں نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے۔ ہجرت کے بعد ان کی مالی حالت کافی دشوار گزار رہی، اور ابتدائی طور پر وہ سائیکل مرمت کی دکان چلاتے تھے۔ ان کے روزگار میں پہیوں کی مرمت اور پنچر زدہ سائیکلوں کی ٹھیککاری شامل تھی۔ بعد میں حکومتِ پاکستان نے ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ماہانہ وظیفہ دیا، جس نے ان کی زندگی میں کچھ ریلیف فراہم کیا۔
زندگی بھر قمر جلالوی کی مالی مشکلات کے باوجود انہوں نے شاعری ترک نہ کی اور اردو ادب میں اپنی نمایاں حیثیت قائم رکھی۔ ان کے اشعار میں سادگی کے ساتھ جذبات کی شدت اور زندگی کے حقیقی رنگ کی جھلک نمایاں ہے، اور وہ مشاعروں اور ادبی محافل میں دلوں پر گہرا اثر چھوڑتے تھے۔ ان کا انتقال 1968ء میں کراچی میں ہوا۔ ان کے کلام کا مجموعہ بعد از وفات شائع ہوا، جس میں ان کی غزلیں، نظمیں اور مرثیے شامل ہیں۔ آج بھی ان کے اشعار اردو ادب کے طالب علموں اور محققین کے لیے قابلِ مطالعہ ہیں، اور کلاسیکی اردو غزل کے فروغ میں ان کے کردار کو یاد رکھا جاتا ہے۔
قیامِ پاکستان کے بعد، قمر جلالوی نے 1947ء میں کراچی ہجرت کی۔ یہاں انہوں نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے۔ ہجرت کے بعد ان کی مالی حالت کافی دشوار گزار رہی، اور ابتدائی طور پر وہ سائیکل مرمت کی دکان چلاتے تھے۔ ان کے روزگار میں پہیوں کی مرمت اور پنچر زدہ سائیکلوں کی ٹھیککاری شامل تھی۔ بعد میں حکومتِ پاکستان نے ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ماہانہ وظیفہ دیا، جس نے ان کی زندگی میں کچھ ریلیف فراہم کیا۔
زندگی بھر قمر جلالوی کی مالی مشکلات کے باوجود انہوں نے شاعری ترک نہ کی اور اردو ادب میں اپنی نمایاں حیثیت قائم رکھی۔ ان کے اشعار میں سادگی کے ساتھ جذبات کی شدت اور زندگی کے حقیقی رنگ کی جھلک نمایاں ہے، اور وہ مشاعروں اور ادبی محافل میں دلوں پر گہرا اثر چھوڑتے تھے۔ ان کا انتقال 1968ء میں کراچی میں ہوا۔ ان کے کلام کا مجموعہ بعد از وفات شائع ہوا، جس میں ان کی غزلیں، نظمیں اور مرثیے شامل ہیں۔ آج بھی ان کے اشعار اردو ادب کے طالب علموں اور محققین کے لیے قابلِ مطالعہ ہیں، اور کلاسیکی اردو غزل کے فروغ میں ان کے کردار کو یاد رکھا جاتا ہے۔
منتخب اشعار
کب میرا نشیمن اہل چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں
غنچے اپنی آوازوں میں بجلی کو پکارا کرتے ہیں
بوسۂ خال کی قیمت مِری جاں ٹھہری ہے
چیز کتنی سی ہے اور کِتنی گراں ٹھہری ہے
کلام
- 01 کب میرا نشیمن اہل چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں Kab mera nasheman ahl-e-chaman gulshan mein gawara karte hain آواز میں دستیاب
- 02 بوسۂ خال کی قیمت مِری جاں ٹھہری ہے Bosa-e-khal ki qeemat meri jaan thehri hai آواز میں دستیاب
- 03 سوال چھوڑ کہ حالت یہ کیوں بنائی ہے Sawal chhod ke halat yeh kyun banayi hai آواز میں دستیاب
- 04 تجھے کیا ناصحا احباب خود سمجھائے جاتے ہیں Tujhe kya naseha ahbab khud samjhaye jaate hain آواز میں دستیاب
- 05 شیخ آخر یہ صراحی ہے کوئی خم تو نہیں Shaikh aakhir yeh surahi hai koi khum to nahin آواز میں دستیاب
- 06 باغ عالم میں رہے شادی و ماتم کی طرح Bagh-e-alam mein rahe shadi-o-matam ki tarah آواز میں دستیاب