search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
رابطہ
قمرجلالوی
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
کب میرا نشیمن اہل چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں
بوسۂ خال کی قیمت مِری جاں ٹھہری ہے
سوال چھوڑ کہ حالت یہ کیوں بنائی ہے
تجھے کیا ناصحا احباب خود سمجھائے جاتے ہیں
شیخ آخر یہ صراحی ہے کوئی خم تو نہیں
باغ عالم میں رہے شادی و ماتم کی طرح
آہ سن کے جلے ہوئے دل کی
نہ رکتے ہیں آنسو نہ تھمتے ہیں نالے
مجھے پھول صبر کر لیں مجھے باغباں بھلا دے
یہ رستے میں کس سے ملاقات کر لی
کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو
اس تفکر میں سرِ بزم سحر ہوتی ہے
پیتے ہی سرخ آنکھیں ہیں مست شراب کی
اے مرے ہم نشیں چل کہیں اور چل اس چمن میں اب اپنا گزارہ نہیں
بصد خلوص بصد احترام کرتے چلو
حالات گلستاں پہ بہت ہم نے نظر کی
دریا دلی کہوں تری کیا ساقیا کہ بس
چمن روئے ہنسے شبنم بیاباں پر نکھار آئے
وہ نہ آئیں گے کبھی دیکھ کے کالے بادل
نہ جاؤ گھر ابھی تو رات ہے بادل بھی کالے ہیں
مریض محبت انہیں کا فسانہ سناتا رہا دم نکلتے نکلتے