قتیل شفائی

شاعر

تعارف شاعری

ایک گم سم فضا کے سواکچھ نہ تھا میری چپ چاپ حیرانیوں کے لیے

ایک گم سم فضا کے سواکچھ نہ تھا میری چپ چاپ حیرانیوں کے لیے
اب کے ساون میں بھی میں ترستا رہا گنگناتے ہوئے پانیوں کے لیے
جب بھی نیکی بدی کا پڑا رَن کوئی جو بھی ناصح تھا وہ پیٹھ دکھلا گیا
سہہ گئے ہم ہی محرومیوں کے ستم رہ گئے ہم ہی قربانیوں کے لیے
کیا خبرکیاخیال آیا صیاد کو، اس کے دل میں بھی اک نرم گوشہ بنا
اب رہائی کے پیغام آنے لگے تیرے خوددار زندانیوں کے لیے
جھونپڑوں میں سسکتی ہوئی بیویو! ہوں گے خالی تمھارے لیے وہ محل
جو محل تاجداروں نے بنوائے ہیں اپنی پیاری مہارانیوں کے لیے
چاہے کوئی بھی ہو، کیوں خوشامد کریں، عاشقوں سے تو یہ کام ہوتا نہیں
کوئی شاعر ہی بلوا لو دربار سے، گل رحو ںکی ثنا خوانیوں کے لیے
جوش پر ہے طبیعت قتیل آجکل سامنے جو بھی آیا وہ بہہ جائے گا
یہ ندی اک زمانے سے مشہور ہے اپنی منہ زور طغانیوں کے لیے

قتیل شفائی