search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
قتیل شفائی
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
میں نے پوچھا پہلا پتھر مجھ پر کون اٹھائے گا
یا رب ساری جھیلوں کو آئینہ کر دے
چارہ گر، اےدلِ بے تاب! کہاں آتے ہیں
اِک بار جو تک لے اُسے تکتا ہی چلا جائے
ایک گم سم فضا کے سواکچھ نہ تھا میری چپ چاپ حیرانیوں کے لیے
ترکِ اُلفت کا صلہ پا بھی لیا ہے میں نے
دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا
اندھیرے چھوڑ کر مَیں جب جا رہا تھا اُجالوں میں
وعدہ حور پہ بہلائے ہوئے لوگ ہیں ہم
مرحلہ رات کا جب آئے گا
اس دھرتی کے شیش ناگ کا ڈنک بڑا زہریلا ہے
تمہاری انجمن سے اٹھ کے دیوانے کہاں جاتے
جو بھی غنچہ ترے ہونٹوں پہ کھلا کرتا ہے
رُو برو وہ ہے عبادت کر رہا ہوں
بتاؤ کیا خریدو گے
شاعری سچ بولتی ہے
فرار کی پہلی رات
مجھ کو دیکھنے والے تو کس دھیان میں ہے
بنا ہوں میں آج تیرا مہماں کوئی عدو کو خبر نہ کر دے
تمہاری انجمن سے اٹھ کے دیوانے کہاں جاتے
پہلے تو اپنے دل کی رضا جان جائیے
جب تصور میرا چُپکے سے تجھے چھُو آئے
دیکھنے کو ہمیں وہ خواب ملے
رابطہ لاکھ سہی قافلہ سالار کے ساتھ
کیا ہے پیار جسے ہم نے زندگی کی طرح
حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گرتا
تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں
صدمے جھیلوں جان پہ کھیلوں اس سے مجھے انکار نہیں ہے
رات کے سناٹے میں ہم نے کیا کیا دھوکے کھائے ہیں
زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں
وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے
اپنے ہونٹوں پر سجانا چاہتا ہوں
اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو
گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں
رقص کرنے کا ملا حکم جو دریاؤں میں