راحت اندوری

شاعر

تعارف شاعری

تعارف

راحت اندوری، جن کا اصل نام راحت قریشی تھا، یکم جنوری 1950ء کو اندور، مدھیہ پردیش میں ایک متوسط مگر علم دوست گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کے بعد اردو میں بی۔اے، ایم۔اے اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں اور یوں علمی و ادبی دنیا میں مضبوط بنیاد قائم کی۔ پیشے کے اعتبار سے وہ گورنمنٹ آرٹس کالج، اندور میں اردو کے پروفیسر رہے اور کئی دہائیوں تک تدریس سے وابستہ رہ کر طلبہ کو زبان و ادب کے رموز سے روشناس کراتے رہے۔ تدریس کو وہ اپنی شناخت کا اہم حصہ سمجھتے تھے، اگرچہ ان کی مشاعروں والی شہرت کے باعث یہ پہلو اکثر پس منظر میں چلا جاتا ہے۔

راحت اندوری کا ادبی سفر انہیں مشاعروں کے ذریعے غیر معمولی مقبولیت تک لے گیا۔ ان کی شاعری میں بغاوت، خودداری، سماجی شعور، جمہوری اقدار کی پاسداری اور ناانصافی و فرقہ واریت کے خلاف بے باک احتجاج نمایاں ہے۔ وہ سیدھی، جاندار اور اثر انگیز زبان میں ایسی بات کہہ جاتے تھے جو عوام کے دلوں میں اتر کر نعرہ بن جاتی تھی۔ بھارت کے ساتھ ساتھ پاکستان، مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور امریکہ تک ان کے مشاعرے مقبول ہوئے، جہاں ان کا بلند آہنگ ترنم، مکالماتی انداز اور برجستہ ادائیگی انہیں عوام و خواص دونوں کا محبوب شاعر بناتی رہی۔ ان کے شعری مجموعوں میں دھوپ بہت ہے، پانچواں درویش، آگ کے پاس بیٹھنا ہے اور میں آخرکار سچ بولوں گا شامل ہیں، جبکہ انہوں نے فلمی نغمہ نگاری کے میدان میں بھی خدمات انجام دیں، اگرچہ وہ خود کو بنیادی طور پر شاعر ہی کہتے تھے۔

نظریاتی طور پر راحت اندوری آزادیِ اظہار کے علمبردار، جمہوری اقدار کے حامی اور ہر قسم کے تعصب کے ناقد تھے۔ وہ کسی سیاسی جماعت سے وابستہ نہیں تھے، مگر ظلم اور ناانصافی کے خلاف کھل کر آواز اٹھاتے تھے۔ 11 اگست 2020ء کو اندور میں کووِڈ-19 کی پیچیدگیوں کے باعث ان کا انتقال ہوا، جسے اردو ادب کا بڑا سانحہ قرار دیا جاتا ہے۔ راحت اندوری جدید اردو شاعری میں ایک توانا، بے خوف اور عوامی شعور کا نمائندہ لہجہ چھوڑ گئے، اور ان کی شاعری آج بھی اس بات کی گواہ ہے کہ وہ جب بولتے تھے تو محض شعر نہیں بلکہ ایک واضح اور جرات مند موقف بولتا تھا۔