اس کے ہر وعدے پر مجھے یقیں تھا
اندازِ گفتگو اس کا دل نشیں تھا
قیام پذیر تھا، یہ شہر سارا جانے
دل میں میرے، تو وہ کہیں اور مگر مکیں تھا
منفرد تھا وہ سب میں، اسی لیے نمایاں لگا
ویسے تو اس کے شہر کا ہر شخص حسیں تھا
احساسِ قربت مجھے مری بند آنکھوں میں رہا
وہ نہ تھا پاس مرے، پھر بھی مرے قریں تھا
وہ کیا جانے مری شبِ فُرقت کے سناٹے کو
ہر وہ لمحہ جو گزر رہا تھا، کتنا حزیں تھا
ذرا ڈر جو اخراجِ مذہب نہ ہوتا تو یارو
دیکھتے تم، ہر عاشق اس کے بام پہ سجدہ جبیں تھا
کیسے بھولوں گا میں اس شام کا منظر قمرؔ
میرے شانے سے سر لگائے بیٹھا وہ مہ جبیں تھا
راجا اکرام قمر