راجا اکرام قمر

شاعر

تعارف شاعری

اس نے سینے سے مجھے تھام لیا آخری شب

اس نے سینے سے مجھے تھام لیا آخری شب
سانس سے سانس نے پیغام لیا آخری شب
اس کی دھڑکن مری دھڑکن میں اترتی ہی رہی
دل نے دل سے یہی کام لیا آخری شب
ہاتھ رکھا جو مرے ہاتھ پہ آہستہ سے اس نے
لمس نے خوف کا انجام لیا آخری شب
اس کے ماتھے سے مرے ہونٹ جو چھو کر لوٹے
سانس نے رک کے مجھے تھام لیا آخری شب
آنکھ نم تھی، وہ ذرا کانپ کے مجھ سے لپٹا
درد نے درد سے آرام لیا آخری شب
سانس بھاری تھی تو میں نے اسے اور تھام لیا
جسم نے روح کا پیغام لیا آخری شب
شام گہری ہوئی، سایہ سا بدن پر اترا
وصل نے ہجر کا انجام لیا آخری شب
وہ جو کہتا تھا کہ بس آج یہ لمحہ ٹھہرے
وقت نے ضد میں وہی انجام لیا آخری شب
جب روح کی تڑپ نے صبر کو توڑ دیا، گرفت ڈھیلی ہوئی
قمر سانس نے بھی آرام لیا آخری شب

راجا اکرام قمر