عشق کی شرط
کہو، وہ عشق ہی کیا
جو گنتی میں آئے
جو مانگے، جو تولے
جو بولے، جو خود کو دکھائے
محبت اگر ہے
تو جلتی رہے
بدن راکھ ہو جائے
مگر آنچ لفظوں میں نہ آئے
جو اپنا ہو
وہ الزام بھی اوڑھ لے
جو چھوڑ جائے
وہ بھیڑ میں نام نہ پائے
یہ عشق ہے
اسے بازارِ حرف میں مت رکھو
یہ راز ہے
اسے ہونٹوں کی دہلیز تک نہ لاؤ
میں مانتا ہوں
کہ وقت فیصلہ کرتا ہے
مگر آنکھ
کسی فیصلے کو دل سے نہ مانے
اور آخر میں
بس اتنی دعا ہے
خاک ہونے سے پہلے
وہ میرا نام لے
اور پھر
کبھی دعا نہ کرے
راجا اکرام قمر