باسی ہوئے ہیں جب سے ہم دیسِ غیر کے
آنکھوں سے مٹ گئے ہیں منظر اپنے شہر کے
ٹوٹا ہوا سا وقت ہے ہر ایک گھڑی کے ساتھ
چلتے نہیں ہیں دن بھی اب اپنی ڈگر کے
جینے کا حوصلہ بھی فقط نام ہی رہا
ٹوٹے ہوئے ہیں خواب بھی سب عمر بھر کے
یادوں کے شور میں بھی اکیلا ہی رہ گیا
کہنے کو ساتھ ہیں کئی رشتے سفر کے
خاموش رات پوچھتی ہے قمرؔ ہر سحر
کیا جاگتے ہیں خواب بھی دل کے نگر کے
راجا اکرام قمر