"دل گمشدہ"
دل گمشدہ،
ارے ہو دل گمشدہ،
یہ بتا تو ذرا…
میں کیا لکھوں،
میں کدھر لکھوں،
اپنے نصیبوں کی مات لکھوں…
یا اپنی قسمتوں کا ثمر لکھوں،
دل گمشدہ،
ارے او دل گمشدہ…
دل سے ذرا پکار اسے،
اک بار نہیں،
بار بار اسے،
کچھ بتا دے اپنا حال اسے،
کیسا گزرا ہے یہ سال اسے…
دل گمشدہ،
کچھ سنا اسے،
چل دکھا دے اپنی وفا اسے…
اور پھر خاموشی میں
بس ایک امید رکھ لے،
کہ ہر آنکھ جو تجھے دیکھے،
تجھے سمجھ لے…
دل گمشدہ،
ارے ہو دل گمشدہ،
یہ پکار،
یہ انتظار،
بس اُسی کے نام رہے،
دل گمشدہ…
دل گمشدہ،
ارے ہو دل گمشدہ۔
راجہ اکرام قمر
راجا اکرام قمر