راجا اکرام قمر

شاعر

تعارف شاعری

دور افلاک کی محفل ستاروں میں رہتا ہے

دور افلاک کی محفل ستاروں میں رہتا ہے
میرے احساس کے اجالوں میں رہتا ہے
وہ ستارہ ہے جو آنکھوں میں چمکتا ہی رہے
دل کے سارے ہی اُجالوں میں رہتا ہے
کوئی ان دیکھا سا رشتہ ہے مرے ہونے سے جو
مرے خواب کے خیالوں میں رہتا ہے
وہ نظر آتا نہیں پھر بھی یقیں بن کر
میری تنہائی کے سوالوں میں رہتا ہے
جس کی خوشبو سے معطر ہیں مرے سب لمحے
وہ مرے دل کے حوالوں میں رہتا ہے
کوئی خاموش سا منظر ہے مرے اندر جو
سانس لیتا ہوا حالوں میں رہتا ہے
وہ حقیقت ہے مگر خواب کی صورت مجھ میں
میرے بیدار اجالوں میں رہتا ہے
تخیلؔ قمر وہی خواب ہے جو تعبیر بنا
میرے لفظوں کے اجالوں میں رہتا ہے

راجا اکرام قمر