غزہ سے خبر آتی ہے مت مسلم کو روزانہ
کہ قتل کیا جاتا ہے طفلِ معصوم سفاکانہ
کیا دورِ خود پرستی آیا ہے کہ ذاتوں میں
مگن ہیں سبھی ایسے کہ بھول گئے برادرانہ
پیشین گوئی ہوئی تھی اسی ایک زمانے کی
مسلم کا مسلم سے ہو جائے گا رویہ رقیبانہ
کیا یاد نہیں وہ دعا طوافِ کعبہ کے لمحے
کہ نسل رہے میری یا رب تا ابد ایمانہ
جینے کا حق ہے بنی اسرائیل کو لیکن
یہ حق نہیں کہ ماریں بنی اسماعیل بزدلانہ
خاموش اگر ہم بھی رہے ظلم کے موسم میں
تاریخ لکھے گی ہمیں مجرم نہ کہ نادانانہ
کیا منہ لے کر جائے گا دربارِ حضور آخر
جو لکھ نہ سکا قمرؔ دو لفظ ہمدردانہ
راجا اکرام قمر