گزرتے ہی نہیں لمحے شبِ ہجر کے
کم ہو گئے ہیں حوصلے شام و سحر کے
دل کی زمیں پہ ثبت ہیں قدموں کے سب نشان
مٹتے نہیں ہیں نقش کبھی اس سفر کے
ہم نے جس شخص کو دنیا سمجھ لیا تھا
وصال کے لمحے ملے اس سے مختصر کے
ٹوٹا سا آدمی ہوں اسی ایک غم میں
خواب جب سے بکھر گئے عمر بھر کے
خاموشیوں نے گھیر لیا دل کو اس طرح
رستے بھی اجنبی ہوئے اپنے سفر کے
یادوں کے شور میں بھی اکیلا ہی رہ گیا
کہنے کو ساتھ ہیں کئی رشتے سفر کے
خاموش رات پوچھتی ہے ہر سحر مجھ سے
لوٹتے ہیں کیا کبھی مسافر اس نگر کے
بچھڑا جو یار، ٹوٹ گئی سانس کی لڑی
قمرؔ نہ ہو سکے کبھی لمحے بھی خیر کے
راجا اکرام قمر