عجب سی بے خودی تھی
چھائی اک مدہوشی تھی
میں بیٹھا تھا یوں
جیسے صدیوں کا ہارا
نہ اور کوئی مجھے لگا
مجھ سے بڑا بیچارہ
لوٹا بھی تو اپنا سب کچھ لٹا کر قمر
چاہے بھی تو اب نہ ہوگی کبھی سحر
Ajab si bekhudi thi
Chhayi ek madhoshi thi
Main baitha tha yun
Jaise sadiyon ka haara
Na aur koi mujhe laga
Mujh se bada bechara
Loota bhi toh apna sab kuch luta kar Qamar
Chahe bhi toh ab na hogi kabhi sahar
راجہ اکرام قمر ڈسٹرکٹ جہلم کی تحصیل سوہاوہ میں چکوال روڈ کے ایک خوبصورت گاؤں میں نمبردار راجہ محمد اکرم خان کے گھر یکم ستمبر 1958 کو پیدا ہوئے ...
مکمل تعارف پڑھیں