راجا اکرام قمر

شاعر

تعارف شاعری

کہو وہ عشق کہاں جو وفا نہ کرے

کہو وہ عشق کہاں جو وفا نہ کرے
مرے تو مر ہی جائے، مگر رسوا نہ کرے
وہ چاہت کیا جو دنیا میں خبر ہو جائے
جو دل میں جل کے رہے، چرچا نہ کرے
اگر ملنا ہو تو خوابوں میں بھی چپکے ہی
سچا رشتہ کبھی در وا نہ کرے
جو اپنا ہے وہ الزام بھی اوڑھ لے
محبت یوں کسی کو جدا نہ کرے
جنوں ایسا ہو کہ حد ہی مٹ جائے
خرد بیچ میں آ کر تقاضا نہ کرے
یہی پیمانۂ عشقِ کامل ہے بس
جو سب کچھ سہہ لے، شکوہ نہ کرے
قمرؔ عشق کا یہ بھی اک المیہ ہے
وہ خود مر تو جائے، صدا نہ کرے

راجا اکرام قمر