خوش ہے کوئی، غم زدہ کوئی، عجب حال ان محفلوں کا ہے
ہر دل میں تلاطم برپا، منظر خراب موسموں کا ہے
بزمِ خیال میں اُن کے لیے جاری ہے اک کشمکش
یا رب بتا، یہ مسئلہ کیا سارے خیالوں کا ہے
وادیِ عشق ہے سنگلاخ، ذرا دیکھ سنبھل کر
سوال یہاں پر صرف نہیں تیرے نازک پاؤں کا ہے
یہ راستہ جو جاتا ہے تری آنکھ سے ترے دل تک
ہم سے پوچھ، نہ جانے کتنی کٹھن مسافتوں کا ہے
پتھر ہی پتھر بکھرے ہیں تیرے گھر کے آس پاس
مگر راستہ فقط یہی عشق کے دیوانوں کا ہے
بس ایک تو ہی کہیں نظر نہیں آتا، قمرؔ
ورنہ چاند تو ساتوں آسمانوں کا ہے
راجا اکرام قمر