راجا اکرام قمر

شاعر

تعارف شاعری

میں خود سے ہی ملتا رہا روز و شب میرے

میں خود سے ہی ملتا رہا روز و شب میرے
میں خود ہی سمجھتا رہا دردِ لب میرے
کسی نے بھی پوچھا نہ حالِ شکستہ
سو خود سے ہی کہنے پڑے سب سبب میرے
جو خاموشیاں تھیں وہ چیخیں بنی رہیں
مگر سن سکا نہ کوئی اضطراب میرے
نہ شکوہ رہا ہے، نہ ہمتِ فریاد
بس ایک بوجھ بن کر رہے خواب میرے
یہ تنہائی اب کوئی دشمن نہیں ہے
یہی آشنا ہے، یہی ہم نسب میرے
میں جس کو سہارا سمجھتا رہا قمر
وہی ایک دن چھوڑ گیا ہاتھ اب میرے

راجا اکرام قمر