راجا اکرام قمر

شاعر

تعارف شاعری

وہ مقیم اسی شہر میں ہے، ملتا نہیں

وہ مقیم اسی شہر میں ہے، ملتا نہیں
کُڑتا ہوں میں دل میں، مگر جلتا نہیں
راستے سب اُسی در پہ جاتے ہیں مگر
چاہنے سے بھی در وا کبھی ملتا نہیں
یاد کی دھوپ میں دل کو جلایا ہے بہت
ہجر کی آگ بجھتی ہے، دل ہی بجھتا نہیں
وصل کی راہ میں دیوار حائل ہے ابھی
آرزو کا در وا ہے مگر، ملتا نہیں
چاندنی میں بھی اُس کا سراپا ہے مگر
خواب آنکھوں میں آتا ہے، مگر کھلتا نہیں
غم کی محفل میں بھی کوئی چراغاں نہ ہوا
دل کی بستی میں اجالا کبھی جلتا نہیں
زخم دل کے ہنستے ہیں، مگر مرہم نہ ملا
وقت کا ہاتھ تھامے بھی سکوں ملتا نہیں
چاہتوں کے سفر میں بھی تنہائی ہے قمر
غم کی محفل میں کوئی چراغ جلتا نہیں
میں ہوں شاعر قمر، دل کا چراغ جلتا نہیں
وصل کی راہ میں بھی اب، کوئی سہارا ملتا نہیں

راجا اکرام قمر