search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
رابطہ
راجا اکرام قمر
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
تیرے رخِ زیبا کی قسم، حسنِ ازل ہو تم
کچھ یقیں کچھ گماں کر گیا
اب یہ دل بھی کسی دن پتھر ہو گا
مقبول دعا میری اے نورِ خدا کرنا (نعت)
اب اس دل کو کسی سے کیا ہو گا
مجھ سے کچھ ایسا واسطہ رکھا
روتا ہے چمن میں ہر سحر بلبل تڑپتے ہوئے
ایک لمحے کو جو لوٹ آئیں قمر، مسکراتے ہوئے
چراغِ دل کی ویرانی میں ہم جلتے ہوئے
ہمارے دل میں وہ رہتا ہے جو مکیں کہیں اور ہے
تم سے بچھڑ کر وحشتوں کا آئینہ ہو گیا
اب اس دل کو کسی سے کیا ہو گا
پہروں قمر کو دیکھے گا وہ شخص میرے بعد
امید
زہر
تلاطم
مہ جبیں
اس گھر میں
جدائی کا موڑ
عجب ارزو
ہمزاد
بس اک بھولی کہانی
اب جو خوش ہوتم
وہ چاردن
کیا پانا کیا کھونا
چند لکیریں
وہ لڑکی
خوبصورت قیاس
اک جھلا شخص
یہ رستہ جو تری آنکھوں سے ترے دل کو ہے
صبح کی سماعت
میں اورآسماں
ہم اور تم
دیا
لوٹے جو بعد اک مدت ، ہر سو اداسی لگے
دعا
قطعہ
آخری خط
خاموش گفتگو
دیکھو تم
تیری یادوں نے اج کچھ یوں مجھے رلایا
علاج درد دل تیری مہ میں ساقیا نہیں
یوں ان کا بننا سنورنا زمانے کے لیے ہے
چہرہ تو ہوتا ہے ایک اخبار کی طرح
قیاس بھی عجب کہ وہ رویا ہوگا
جب سے بچھڑا ہے تو بکھر گیا ہوں
کچھ یادوں کی شکل میں کہانی چھوڑ جائیں گے
غسل آخر نکھر گیا ہوں میں
جس سے دل لگاؤ رولایا نہیں کرتے
جی رہا ہوں ترے بغیر، یہ تو کمال ہوگیا
قمر سحر کو جو تارے بھی چھپنے لگتے ہیں
مرے شہر کےعجب یہ منظر ہیں
بات ان کی کیسے ٹالی جائے گی
راحت لمس ہوائے شام کی لاجواب تھی
ہو گیں کب سے در بدر اکھیاں
درد دل سب کو سنا کے دیکھ لیا
دلکشی، انس، محبت، عقیدت اور عبادت
مجھ پہ گزرا جو سانحہ لکھوں
جو سلسلہ ہی نہ ہو تو پھر وضاحتیں کیسی
پھر اک شام شہر میں آپ کے گزارنا چاہتا ہوں
سلامی دوں میں جھکائے یہ سر مدینے میں
اج یاد بڑی آئی فیر اپنے پنڈ دی کسی
اکھیاں وچوں ڈل کےتے
کچھ نہیں ہوتا
میری وہ تنہائی
مائے نی مائے
دور عرش پر
نثری نظم
وصال جاناں
دیکھو تم
بےبسی
مرجھائے گلاب
وقت وصال کی سوچ
سات سمندر گئے پردیسی
رب کرے وسیلہ کوئی تے دل دا درد تھم جاوے
ہاتھ میں تیرا ہاتھ اور سنگ زمانہ تھا
طلب دیدار یار، لہجے میں ضرور شیریں ہوگی
آج پھر برسا ساون اور کالی گھٹا چھائی
وہ راہ کہ جس کے موڑ پہ بیٹھا قمر برسوں
میں نے لکھ دی میکدے کے نام تیرے بعد
بیٹھ کر میکدے میں جو شروع ہم نے تلقین کر دی
ہائے وہ اک لمحہ ہے جدائی جو یادگار بنا
کہے جو تجھ پہ وہ اشہار جھوٹ بولتے ہیں
رات ہاتھوں میں جام ہوتا ہے
عکس سے عکس جو ٹکرایا ادھر پانی میں
سلام حسین