قتلِ یار کا اہتمام ہو جائے
عشق کا کوئی انجام ہو جائے
جل چکا ہے پروانہ
شمع اب آرام ہو جائے
راہِ عشق میں آخر
حسن کا کوئی کام ہو جائے
درد نے وفا کی ہے
دل بھی ہم کلام ہو جائے
خاک ہو گیا چاہت میں
عشق بدنام ہو جائے
اب نہ لو کی ضد باقی
رات بھی تمام ہو جائے
رہ گئی ہے بس خوشبو
جسم بے نام ہو جائے
آگ ہی نے سمجھایا
وصل کا کام ہو جائے
خود میں ہی گم ہو جائے قمرؔ
جب یہ انکار تمام ہو جائے
راجا اکرام قمر