طلب وہی پھر جنت کی کرے
جہاں سے نکالا گیا تھا بشر
زمیں پہ اترا تو بھول گیا
کہ کیا تھا، کیوں تھا، کہاں تھا بشر
سب کچھ پا کر بھی خالی رہا
کہ خود سے ہی بچھڑا ہوا تھا بشر
نہ تخت نے کچھ تسکین دی
نہ تاج سمجھ سکا دردِ بشر
ہزار صداؤں میں گم ہو گیا
جو سن نہ سکا دل کی صدا، بشر
جب آنکھ ہوئی نم، لب چپ رہے
تب جا کے سمجھ پایا خود کو بشر
قمرؔ یہی ہے نجات کی راہ
کہ خود میں ہی واپس لوٹ آئے بشر
راجا اکرام قمر