راجا اکرام قمر

شاعر

تعارف شاعری

تری یادوں کا یہی درد مرا سرمایہ ہے

تری یادوں کا یہی درد مرا سرمایہ ہے
اسی درد نے مرے دل کو بہت رلایا ہے
میں تصور میں محسوس کروں تیری قربت
ترے وجود کی خوشبو ہی مرا سرمایہ ہے
نہ جانے کس نظرِ کرم سے تُو نے مجھے
یہ دردِ دل، یہ ہنر، یہ جنون بخشایا ہے
تری جدائی نے بخشا مجھے وہ سوزِ طلب
جو ہر اک لفظ میں جل کر اُبھر آیا ہے
میں اپنے خواب لیے پھرتا ہوں ویرانوں میں
تری یادوں کا ہر اک موڑ پہ سایہ ہے
کبھی ہنسا تھا بہت، آج آنکھ نم سی ہے
اسی محبت نے آخر مجھے رلایا ہے
نہ شکوہ ہے، نہ گلہ، نہ کوئی دعویٰ اب
جو بھی قسمت نے لکھا، وہی دل کو بھایا ہے
قمرؔ متاعِ سخن بھی اسی سے روشن ہے
جو دل نے زخمِ محبت سے ہی کمایا ہے

راجا اکرام قمر