یہ جو خود کو ڈھونڈتا پھرتا تھا، اک گماں ہی رہا
اصل میں وہ اپنے ہی سائے کا اک گماں ہی رہا
میں نے جب چھوڑا تصور خدا کے فاصلے کا
تب کھلا مجھ پہ کہ ہر پردہ درمیاں ہی رہا
ذکر میں، فکر میں، سجدے میں، ریاضت میں بھی
ایک آواز تھی جو دل میں نہاں ہی رہا
میں نے مانا کہ خطا مجھ سے ہوئی عمر تمام
ورنہ وہ قرب تو پہلے سے عیاں ہی رہا
راہِ باطن میں جو کھویا تو یہی بات کھلی
جس کو پایا تھا وہی میرا نشاں ہی رہا
قمرؔ انجام یہ نکلا ہے اس سفر کے بعد
ڈھونڈنے والا بھی میں، اور وہ کہاں ہی رہا
راجا اکرام قمر