آدمی ہے وہ کہ جو جُھکتا ہے رب کے سامنے
جانور ہے جو کہ جُھکتا ہے غضب کے سامنے
آدمی کا مرتبہ ہے، فضلِ رب سے، سامنے
جھک گئے سارے فرشتے، ساتھ ادب کے، سامنے
سوچ لو اک بار پھر سے، غور کر لو میری جاں
اعترافِ جرمِ عشق اور وہ بھی سب کے سامنے؟
فاصلے سے گفتگو ہم کو گوارا اب نہیں
جو بھی کہنا ہے کہو، لیکن، ہاں اب کے سامنے
چھوڑنے کو چھوڑ دیں تم کو بھی پَل سے پیشتر
ہم کہ ہیں مجبور، خود اپنی طلب کے سامنے
کون دیکھے آج، کل کے باپ دادا کون تھے؟
حال کا ہے مال عالی، ہر نسب کے سامنے
زندگی نے مار ڈالا، موت سے پہلے ہمیں
پیش ہیں صدیوں سے، ہم اپنی عقب کے سامنے
راشد ڈوگر