راشد ڈوگر

شاعر

تعارف شاعری

‏آتے آتے آن جگائے مجھ کو ریلا مصرعوں کا

‏آتے آتے آن جگائے مجھ کو ریلا مصرعوں کا
‏جاتے جاتے جان کھپائے یارو میلہ سوچوں کا
‏جلتے جلتے جم جاتا ہے تیکھا تیل تخیل کا
‏بُجھتے بُجھتے ، بھڑکے پھر سے شعلہ شوخ خیالوں کا
‏لکھتے لکھتے لکھ ڈالے ہیں دفتر کتنے شعروں کے
‏پڑھتے پڑھتے پڑھ جائے گا طوطا پڑھنے والوں کا
‏ہوتے ہوتے ہو جاتا ہے جیون آخر ہونے کو
‏روتے روتے رک جاتا ہے پانی روتی آنکھوں کا
‏جھڑتے جھڑتے جھڑ جاتے ہیں پتّے سارے پت جھڑ میں
‏پکتے پکتے پک جاتا ہے دھان کسان کے کھیتوں کا
‏سوتے سوتے جا پہنچوں میں جادو نگری خوابوں کی
‏جاگوں تو پھر جاگتا جائے جوکھم جیتی جانوں کا
‏جاتے جاتے لے جاتی ہے ماتا دھاگا ممتا کا
‏جس کے ساتھ وہ باندھے رکھتی ناطہ اپنے بچوں کا

راشد ڈوگر