آتے آتے آن جگائے مجھ کو ریلا مصرعوں کا
جاتے جاتے جان کھپائے یارو میلہ سوچوں کا
جلتے جلتے جم جاتا ہے تیکھا تیل تخیل کا
بُجھتے بُجھتے ، بھڑکے پھر سے شعلہ شوخ خیالوں کا
لکھتے لکھتے لکھ ڈالے ہیں دفتر کتنے شعروں کے
پڑھتے پڑھتے پڑھ جائے گا طوطا پڑھنے والوں کا
ہوتے ہوتے ہو جاتا ہے جیون آخر ہونے کو
روتے روتے رک جاتا ہے پانی روتی آنکھوں کا
جھڑتے جھڑتے جھڑ جاتے ہیں پتّے سارے پت جھڑ میں
پکتے پکتے پک جاتا ہے دھان کسان کے کھیتوں کا
سوتے سوتے جا پہنچوں میں جادو نگری خوابوں کی
جاگوں تو پھر جاگتا جائے جوکھم جیتی جانوں کا
جاتے جاتے لے جاتی ہے ماتا دھاگا ممتا کا
جس کے ساتھ وہ باندھے رکھتی ناطہ اپنے بچوں کا
راشد ڈوگر